جب ہم اُس سے جدا ہوئے ہوں گے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالجب ہم اُس سے جدا ہوئے ہوں گے
آسماں خوں میں تَر گئے ہوں گے
روح اُچھل کر سماں تک اُڑ جائے
ہم یُوں اس سینے سے لگے ہوں گے
جن کی یادوں میں کھوئے ہوش نہیں
پہلے شاید خدا رہے ہوں گے
جن کے طعنوں نے تُم کو چھلنی کیا
کس قدر لوگ وہ برے ہوں گے
جن پلوں نے جدا کیا ہم کو
مانگتے موت تھک گئے ہوں گے
اشک وہ بھی سلام کہتے ہیں
کبھی آنکھوں سے نا بہے ہوں گے
لب ہوں خاموش تو مرے رستے
چیختے اور پُکارتے ہوں گے
تیرے رُو سے نقاب اُٹھا دیکھ کہ
شہر کے شہر مر گئے ہوں گے
اُس کے جلوے کی تاب نہ لا کر
دیدے یک آن پھر پھٹے ہوں گے
میرے زخم انتظار میں تیرے
خود ہی مرہم ہوئے بھرے ہوں گے
گنتے گنتے تمہارے رستوں کو
فاصلے ہی تڑپ اُٹھے ہوں گے
سینے جِس کے وہ لگ گیا ہو گا
اُس کے سب ناز رو پڑے ہوں گے
کتنے لب دیکھ کر ہوس سے تجھے
رالیں ٹپکاتے مر رہے ہوں گے
صرف تجھ کو گزارنے کے لیے
بگڑے لمحے سُدھر چلے ہوں گے
جاں تری داستاں کو لکھ لکھ کر
لفظ بیزار ہو گئے ہوں گے
کہتے ہیں نبضِ زندگی جن کو
وہ ہمیں بُھول بھی چُکے ہوں گے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






