جستجو
Poet: Farhana Jabeen By: Farhana Jabeen, Karachiمیں تیری محبت میں سرشار
تجھے ہر لمحے ڈھونڈتی رہی
جنگلوں میں ویرانوں میں
مجنوں کی طرح دیوانوں میں
پھر تھک سی گئی
اور بجھ سی گئی
تلاش میری یوں ختم ہوئی
لمحے تو بس گزرنے لگے
مجھ کو بہت سمجھانے لگے
تب میں نے سوچا اور گئی سمجھ
نہ تجھ کو یوں پانے کا سبب
بس آخر اس کو پا ہی لیا
پھر جان لیا پہچان لیا
اب یہ محسوس میں کرتی ہوں
کہ اس کو دیکھ میں سکتی ہوں
درخت کے پتے پتوں میں
کائنا ت کے زرے زروں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







