جنگل میں ہے منگل کا سماں لوٹ کے آ جا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکجنگل میں ہے منگل کا سماں لوٹ کے آ جا
چاہت ہے ابھی اپنی جواں لوٹ کے آ جا
بکھری ہوئی کب سے ہیں تعلق کی لکیریں
پھیلی ہوئی ہر سو ہے فغاں لوٹ کے آ جا
ہو سکتا ہے مل جائیں کسی موڑ پہ ہم تم
تقدیر کا زندہ ہے نشاں لوٹ کے آ جا
مجبور محبت کے یہ قصے نہ سناؤ
اس وقت ہے الفت کا سماں لوٹ کے آ جا
اس یاد کے منظر میں لگی آگ ہے کب سے
بھر جائے نہ آنکھوں میں دھواں لوٹ کے آ جا
دم توڑنے والی ہیں پرندوں کی صدائیں
ہونے کو ہے مغرب کی اذاں لوٹ کے آ جا
مل جائے مجھے کاش اے وشمہ یہ محبت
پھر لوٹنے والی ہے خزاں ، لوٹ کے آ جا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






