بڑا ہی لطف دیتی ہے
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiمحبت میں ہمکلامی کا مزہ تو خوب آتا ہے
ہو جائے خودکلامی تو بڑا ہی لطف دیتی ہے
کسی کو سوچ کر تصوّر میں کیے جانا کئی باتیں
اسی دوران آتی ہونٹو ں پے مسکراہٹ بڑا ہی لطف دیتی ہے
کھویے رہنا خیالوں میں، کسی کے پوچھے سوالوں میں
اسکی سوچتی آنکھیں اور کچھ کھوجتی آنکھیں بڑا ہی لطف دیتی ہے
جدائی کی اداسی میں روے جانا کئی پہروں تک
پھر اچانک فون پے آنا اسکی کال بڑا ہی لطف دیتی ہے
وہ جگنا پوری راتوں کا، صبح پھر دیر تک سونا
شکن آلود بستر پے اسکی خمار آنکھیں بڑا ہی لطف دیتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






