جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
Poet: Aisha khan By: Aisha khan, Londonجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
وہی لوگ پھر سے یاد آنے لگے ہیں
رنجشیں ساری بھولا دی ہیں ہم نے
کہ موسم پرانے پھر یاد آنے لگے ہیں
بوجھا دیے ہیں سب انتظار کے دیے
کہ ملاقاقوں کے دن قریب آنے لگے ہیں
پھر دل اک ترنگ میں جھومنے لگا ہے
ملن کے وہ مزے پھر یاد آنے لگے ہیں
ہر شاخ پر پھول پھر کھلنے لگے ہیں
کہ بہاروں کے موسم پھر یاد آنے لگے ہیں
ملے جو کبھی تو پھر ہوں نہ جدا عاشئ
لبوں پر یہ ترانے بس اب آنے لگے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






