بڑی دلچسپ کہانی ہے
Poet: Nehal Inayat Gill By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaبڑی دلچسپ کہانی ہے
نہ راجہ نہ رانی ہے
بس اِک عام سا ہے شخص
اور اِک خاص پری کومل
محبت کی سلاخوں کو
پکڑ کے آپ بیٹھے ہیں
زمانے بھر کے لوگو سے
جھگڑ کے آپ بیٹھے ہیں
نئی دنیا سجانے کا
جنون دل میں وہ رکھتے ہیں
پہاڑوں کو جھکانے کا
جنون دل میں وہ رکھتے ہیں
پری وہ خاص کہتی ہے
میرا سب کچھ تم ہو تم
وہ جو عام سا ہے شخص
پری کا دل آیا اُس پر
پرستان چھوڑ کے اُس نے
بنایا اُس کو اپنا گھر
آشیانے جل گئے سارے
زمانے کی بغاوت میں
کمی پر آئی کچھ بھی نہ
دونوں کی محبت میں
فتوے ہو گئے جاری
چلے لشکر جدائی کے
قافلے بھی لگے پیچھے
دردوں کی رسوائی کے
میدانِ بے بسی میں گیرے
گئے دونوں وہ تنہا
گِزے سجدے میں مولا کے
لگائی اِک صدا دیکھو
محافظ بن کے فلک سے
اُتر آیا خدا دیکھو
نفرت کے کمینوں نے
شکست تھی وہاں کھائی
اور پھر یوں ہوا نہالؔ
محبت نے فتح پائی
محبت نے فتح پائی
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






