جو آپ کی تھی نظرِ عنائیت بھی نہیں ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجو آپ کی تھی نظرِ عنائیت بھی نہیں ہے
اب دل میں وہ پہلی سی محبت بھی نہیں ہے
کچھ ان کے بھی بدلے سے نظر آتے ہیں تیور
پہلی سی میسر ہمیں فرصت بھی نہیں ہے
اُس شخص کو منصف کے نبھانے ہیں فرائض
وہ شخص جو انصاف کی مورت بھی نہیں ہے
حاصل ہیں انھیں اور بہت چاہنے والے
اب اُن کو مری خاص ضرورت بھی نہیں ہے
اب دور ہوئے جاتے ہیں مذہب سے بہت ہم
پہلا سا وہ اب شوقِ عبادت بھی نہیں ہے
ذہنوں پہ ہیں چھائے ہوئے ابہام کے سائے
اور سامنے کچھ اس کی وضاحت بھی نہیں ہے
ہر آئینہ بے عکس ہوا جاتا ہے اب کے
اور اس میں کہیں کوئی شباہت بھی نہیں ہے
کیا جانے خفا ہم سے وہ کیوں رہتے ہیں اکثر
ہر چند کوئی ان سے عداوت بھی نہیں ہے
گم گشتہ تعلق کا ہی کچھ پاس تو رکھ لیں
اب لوگوں میں اتنی سی مروت بھی نہیں ہے
دن رات ترے عشق میں ہم مٹتے رہے ہیں
اور لب پہ کوئی حرفِ شکائت بھی نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






