اداس نہیں ہو پاتی (دوبارہ)

Poet: UA By: UA, Lahore

میں اداس ہو کے بھی اداس نہیں ہو پاتی
اپنے پاس ہو کے بھی اپنے پاس نہیں ہو پاتی

میری تنہائی میرے چاروں اور پھیلی رہتی ہے
میں تنہائی میں بھی مبتلائے یاس نہیں ہو پاتی

قہقہوں میں ڈوبی میری تنہائی مجھے کہتی ہے
یہ بزمِ شور و شغف مجھے راس نہیں ہو پاتی

میری نظر میں جو تصویر برسوں سے سمائی ہے
اب اس کے سوا کوئی شبیہ خاص نہیں ہو پاتی

جو اپنے من کے دیوتا کی داسی بن کے رہ گئی
وہ کسی اور من مندر کی داس ہو نہیں پاتی

میں ایک آس پہ ڈٹ گئی ہوں وقت کے مقابل
ہر آس پوری ہوئی ہے وہ آس ہو نہیں پاتی

تدبر اور تحمل سے اگر ہر گام پہ چلتی
کبھی یوں باختہ حواس ہو نہیں پاتی

محنت سے کترا کے مصائب سے گھبرا کے
میں کبھی لائقِ سپاس ہو نہیں پاتی

مائیں ساس اور ساس بھی مائیں ہوتی ہیں
کیوں ماں کے جیسی کوئی ساس نہیں ہو پاتی

مجھے عظمٰی اگر الفت نہ ہوتی اپنے آپ سے
ابھی تک میں بھی خود شناس نہیں ہو پاتی

Rate it:
Views: 518
07 May, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL