اداس نہیں ہو پاتی (دوبارہ)
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں اداس ہو کے بھی اداس نہیں ہو پاتی
اپنے پاس ہو کے بھی اپنے پاس نہیں ہو پاتی
میری تنہائی میرے چاروں اور پھیلی رہتی ہے
میں تنہائی میں بھی مبتلائے یاس نہیں ہو پاتی
قہقہوں میں ڈوبی میری تنہائی مجھے کہتی ہے
یہ بزمِ شور و شغف مجھے راس نہیں ہو پاتی
میری نظر میں جو تصویر برسوں سے سمائی ہے
اب اس کے سوا کوئی شبیہ خاص نہیں ہو پاتی
جو اپنے من کے دیوتا کی داسی بن کے رہ گئی
وہ کسی اور من مندر کی داس ہو نہیں پاتی
میں ایک آس پہ ڈٹ گئی ہوں وقت کے مقابل
ہر آس پوری ہوئی ہے وہ آس ہو نہیں پاتی
تدبر اور تحمل سے اگر ہر گام پہ چلتی
کبھی یوں باختہ حواس ہو نہیں پاتی
محنت سے کترا کے مصائب سے گھبرا کے
میں کبھی لائقِ سپاس ہو نہیں پاتی
مائیں ساس اور ساس بھی مائیں ہوتی ہیں
کیوں ماں کے جیسی کوئی ساس نہیں ہو پاتی
مجھے عظمٰی اگر الفت نہ ہوتی اپنے آپ سے
ابھی تک میں بھی خود شناس نہیں ہو پاتی
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






