جو بات تمہیں کل کہنی ہے وہ بات ابھی سے کہہ دو نا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجو بات تمہیں کل کہنی ہے وہ بات ابھی سے کہہ دو نا
تم میرے دِل میں بس جاؤ ، میری سانسوں میں مہکو نا
کچھ دیر لبِ ساحل رُک کر لہروں کا تماشا دیکھیں گے
تم گیلی ریت پہ انگلی سے پھر نام ہمارا لکھو نا
اس دنیا کے ہنگاموں سے اِک روز جو فرُصت مِل جاۓ
میں کون ہوں ، کیا ہوں ، کیسی ہوں میرے بارے میں سوچو نا
اِس حال میں ہم کو دیکھیں گے، تو لوگ بھلا کیا سوچیں گے؟
میں دِل کا درد چھپا تی ہوں ، تم اپنے آ نسو پی لو نا
تِرے لمس سے تپتے جذبوں کو تھوڑی ٹھنڈک مل جاۓ گی
میری جلتی پیشانی پر تم ہاتھ اپنا پھر سے رکھو نا
تم جانے سوچ رہے ہو کیا ،کیا پیار بھی سوچ کے ہوتا ہے؟
بن سوچے سمجھے پیار کیا میں نے تو تم سے دیکھو نا
یہ دردِ محبت سہنا تو ، ہے کام بڑے دِل والوں کا
تم اپنا دِل واپس لے لو اور میرا دِل لوٹا دو نا
دنیا میں لاکھوں دِلبر ہیں ، تم جیسا لیکن ایک نہیں
تم کتنے اچھے لگتے ہو یہ میرے دِل سے پوُ چھو نا
اس پیار سے بڑھ کر دنیا میں کویٔ شے بھی انمول نہیں
تم چھوڑ دو ساری دُنیا کو اور میرے پاس آ جاؤ نا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے







