جو بھی ہوا بھول جاتے ہیں
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanکاش کہ جانیں کس کرب میں مبتلا ہیں
ہمارا دل بے وجہ جو جلاتے رہے ہیں
میرے پیار کی قدر وہ کیا جانیں
کانچ جان کر دل پر جو چوٹ لگاتے رہے ہیں
کہتے ہیں پہلے جیسے نہیں اب ہم بدل گئے ہیں
زمانے کو جو اپنا غلام بناتے رہے ہیں
مسکرانے کا کہیں جب بھی ملتے ہیں
ہمیں مسکراتا دیکھ جو منہ بناتے رہے ہیں
مجھ سے تعلق جوڑنے کی خواہش ہے انہیں
دامن جو مجھ سے ہمیشہ چھڑاتے رہے ہیں
بدل گیا ہے وقت چہرے بھی بدل گئے ہیں
مہربان ہیں اب صدا جو زخم لگاتے رہے ہیں
ممکن ہے رات ڈھل گئی ہو ان کے غرور کی
اوروں کو ہمیشہ نیچا جو دکھاتے رہے ہیں
میرے دل کا چمن اپنی بے رخی سے اجاڑ دیا
کھلانےکی خواہش ہے جن پھولوں کو خود کملاتے رہے ہیں
چلو جو بھی ہوا بھول جاتے ہیں تیرے سارے ستم
بس مٹا دو میرے دل پر لگے داغ خود ہی جو لگاتے رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






