تم چلے گئے جس راہ پر ھمیں چھوڑ کر منہ موڑ کر
Poet: Sahib By: Sahib, Multanتم چلے گئے جس راہ پر ھمیں چھوڑ کر منہ موڑ کر
ھم آج بھی ھیں وھیں کھڑے خود کو توڑکر منہ موڑ کر
تم تو کہتے تھے کبھی نہ جاؤ گے ھمیں چھوڑ کر ھمیں توڑ کر
پھر کیا ھواکیوں چلے گئے ھمں توڑ کر منہ موڑ کر
نہ جانے کتنے طوفان آئے ھمیں توڑنے ھمیں موڑنے
انہیں کیا پتہ ھم کھڑے ھیں خود کو توڑ کر منہ موڑ کر
اک شخص ملا اس راہ پر جو لگا ھمیں تمہارے سا
پر لگا تو دل کو یہ لگا تو آیا ھے خود کو چھوڑ کر
یہی اب ھماری قسمت ھے یہ سوچ کر
ھم نے خود کو گنوا دیا تمہیں کھو کر تمہیں چھوڑ کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






