تم چلے گئے جس راہ پر ھمیں چھوڑ کر منہ موڑ کر
Poet: Sahib By: Sahib, Multanتم چلے گئے جس راہ پر ھمیں چھوڑ کر منہ موڑ کر
ھم آج بھی ھیں وھیں کھڑے خود کو توڑکر منہ موڑ کر
تم تو کہتے تھے کبھی نہ جاؤ گے ھمیں چھوڑ کر ھمیں توڑ کر
پھر کیا ھواکیوں چلے گئے ھمں توڑ کر منہ موڑ کر
نہ جانے کتنے طوفان آئے ھمیں توڑنے ھمیں موڑنے
انہیں کیا پتہ ھم کھڑے ھیں خود کو توڑ کر منہ موڑ کر
اک شخص ملا اس راہ پر جو لگا ھمیں تمہارے سا
پر لگا تو دل کو یہ لگا تو آیا ھے خود کو چھوڑ کر
یہی اب ھماری قسمت ھے یہ سوچ کر
ھم نے خود کو گنوا دیا تمہیں کھو کر تمہیں چھوڑ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






