جو جذبوں پر تھے قائم وہ بھی رشتے ٹوٹتے دیکھے
Poet: Shafiq Murad By: Shafiq Murad, Frankfurtجو جذبوں پر تھے قائم وہ بھی رشتے ٹوٹتے دیکھے
وفا کے سچّے بندھن اور وعدے ٹوٹتے دیکھے
شبِ غم میں بجھا رکھے تھے سانسوں کے دیئے ہم نے
سکوں طاری تھا جن پہ وہ بھی لمحے ٹوٹتے دیکھے
ہماری زندگی تو رتجگا تھی جاگتے گذری
نہ دیکھے تھے جو آنکھوں نے وہ سپنے ٹوٹتے دیکھے
وفا کی پیا ر کی ڈوری میں جو ہم نے پروئے تھے
وہ موتی آنسووں کے ہم نے سارے ٹوٹتے دیکھے
نجانے کیاچھپاہو تیری چاہت کے سمندر میں
کہ میں نے رات بچبن کے کھلونے ٹوٹتے دیکھے
مرادؔ اس عشق کے ہاتھوں ملیں رسوائیاں سب کو
کہیں گُل تو کہیں پر ماہ پارے ٹوٹتے دیکھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






