جو راہ میں اُن سے معلاقات ہوئی کل
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaجو راہ میں اُن سے معلاقات ہوئی کل
بے موسم آنکھوں سے برسات ہوئی کل
پرانے زخم بول پڑے چیخ چیخ کے میرے
یُوں دل کی دل سے بات ہوئی کل
ہونٹوں سے کچھ نہ کہا اُس سے مگر
نظروں سے گِلے اور شکائیات ہوئی کل
پوری دنیا میں جیسے ہم ہی تھے بس
خاموش یُوں ساری کائنات ہوئی کل
مرے ہوئے ارمان دوبارہ اُٹھ کھڑے ہوئے
جیسے میری عیسیٰ سے معلاقات ہوئی کل
پتھروں کو روتے ہوئے دیکھا میں نے
ریزہ ریزہ پتھر کی ذات ہوئی کل
نہال کو ملا قرار کھویا ہوا راہ میں
عید کا چاند دیکھا عیدوشبرات ہوئی کل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






