جو مل سکیں نہ کبھی ان کا راستہ کیسا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجو مل سکیں نہ کبھی ان کا راستہ کیسا
خزاں کے دور میں پھولوں کا قافلہ کیسا
لبوں کا کام نگاہوں سے کیوں نہیں لیتے
اثر جو کر نہ سکا پھر یہ سلسلہ کیسا
یہ کہنا رات گذرتی ہے اب بھی آنکھوں میں
تمہاری یاد کا قائم ہےواسطہ کیسا
یہ کہنا چاند اُترتا ہے بام پر اب بھی
مگر نہیں وہ شبِ ماہ کا مزا کیسا
معیار پیسہ ہو توقیر آدمی کے لیے
تو مفلسوں کی زمانے میں بھی پانا کیسا
جگر کا خون بھی دینے سے کچھ نہیں حاصل
شجر سے ٹوٹی ہوئی شاخ پہ آسرا کیسا
جدائی اسکی مجھے صحرا سمت لے آئی
اٹک کے رہ گیا پلکوں پہ خواب سا کیسا
میں کیوں نہ مانگ لوں صحرا کی ریت سے پانی
جو پیاس اور بڑھا دے پھر تو یہ وشمہ کیسا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






