جھولتی ہیں کہیں پینگوں پہ لڑکیاں ٹھہرو !
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillلذت عشق پہ رحمت ہیں سختیاں ٹھہرو
ابھی سینے میں اترنے دو برچھیاں ٹھہرو
کون دکھلائے گا پھر انکو آبلہ پائی
میرے تلووں کو چومتی ہیں کرچیآں ٹھہرو
اے میرے پردہ نشیں احتیاط ہے لازم
کاٹ نہ لیں زنان مصر انگلیاں ٹھہرو
شوق کو آس نے آواز دے کے بتلایا
کھولتی جا رہی ہے شام کھڑکیاں ٹھہرو
آج پھر لو کے تھپیڑوں سے کہا فطرت نے
جھولتی ہیں کہیں پینگوں پہ لڑکیاں ٹھہرو
اے چلتے وقت کی لہرو یہ سرعتیں کیسی
میرے ہمراہ ہیں یادوں کی تتلیاں ٹھہرو
میں تیرے پیار میں ایندھن بنوں تو کیسا گلہ
کاٹ ڈالو میری گل دار ٹہنیاں ٹھہرو
آزماتے ہیں چلو زور بادبانوں کا
ڈال دو بیچ میں طوفاں کے کشتیاں ٹھہرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






