جھوم جھوم لہرا لہرا کے خوب مسکرا کے لا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaجھوم جھوم لہرا لہرا کے خوب مسکرا کے لا
جا پھری جوانی کو مہ میں نہلا دھلا کے لا
ساخر سبو صراحی کب سے توڑ دیے میں نے
چاند کے پیالے میں پھولوں کا رس ملا کے لا
گلدستہ تیرا مجھے ہے جان سے بھی عزیز
پر خدارا کانٹوں کو پھولوں سے ہٹا کے لا
ایسے دیکھوں صورت اس کی دل امنگ اٹھے
اے شب زرا جا مہتاب بلا کے لا
رہے جوہری کمال دیکھا تجھے مان جاؤں میں
زرا آنسوں کو پیرو ہار بنا کے لا
عجیب سی کشمکش تیرے آگے آ کے ہوئی کھڑی
نفرت کو چھوڑ محبت کو اٹھا کے لا
ہونے لگی تیرے پیار کی شدت کیوں کر کم
جا چاہت میں میری اپنے سوچ کے رنگ ملا کے لا
ایسی نہ کر گستاخی چاند دیکھنے کی جھک کے رخسارِ یار کو
دیکھنا ہے تو پھر رات کو پہرے دار بنا کے لا
جارہی ہیں روٹھ کے رنگیں جوانی کی گھڑیاں
قلزم مہ کدے سے جا میری جوانی بہلا کے لا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






