جیسے بھی حالات بدلتے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: ارم مشتاق, Lahoreجیسے بھی حالات بدلتے
لیکن میرے ساتھ وہ چلتے
جانے کس کی نظر لگی ہے
جل گیا گلشن پھولتے پھلتے
مٹ گئیں ہاتھوں کی ریکھائیں
ان کے ہجر میں ملتے ملتے
تنہائی میں سرد رتیں بھی
کٹ جائیں گی جلتے جلتے
جس نگری کے وہ باسی تھے
ہم اس سے کس طور نکلتے
اپنی صورت بھول گئے ہم
روز نیا اک بھیس بدلتے
جو کرتے تھے گل افشانی
وہ بیٹھے ہیں زہر اگلتے
گلشن میں رت کیسی آئی
مالی ہیں خود پھول مسلتے
چھاؤں دیتے پیڑ یہاں پر
دیکھ رہا ہوں جلتے بلتے
جانے کس دم شام ہو جاۓ
زیست کا سورج ڈھلتے ڈھلتے
بدل گئے سب دیپک راہیں
لوگ ملے جو چلتے چلتے
More Love / Romantic Poetry






