جینے مرنے کی تو صدا ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجینے مرنے کی تو صدا ہوتا
طاقِ دل میں اگر پڑا ہوتا
میری دنیا سنوارنے والے
میرے شانوں پہ سر ترا ہوتا
پھول کلیوں کی کیا ضرورت تھی
میری خوشبو سے گھر بسا ہوتا
تیری میری وفاؤں کا ہمدم
تمغہ سینے پہ اب سجا ہوتا
شہرِحسرت کی اب بھی گلیوں میں
کیا ضروری ہے کربلا ہوتا
کھبی ہوتی نہ روشنی کی کمی
آنسوؤں کا اگر دیا ہوتا
شوقِ الفت ہے شعیدہ بازی
وشمہ ایسے نہ یہ کیا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






