جینے کو رستہ کوئی آسان دیکھو
Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahoreجینے کو رستہ کوئی آسان دیکھو
نہ محبت کا گلستان دیکھو
مر جاؤ گے ٗ مٹ جاؤ گے
نہ اس کو کبھی مہربان دیکھو
سینے میں چھید کر دے گی
اسے دکھ بھری داستان دیکھو
تقصیرِ کبیرہ نہ کر بیٹھنا
جگانے سے پہلے ارمان دیکھو
منہ زور گھٹاؤں سے واسطہ نہ رکھو
معصوم دل ہے ٗ اپنی جان دیکھو
جلا ڈالے ہیں کئی دیوانے اس نے
گزری جہاں جہاں سے ٗ نشان دیکھو
قبروں میں پڑے ہیں وہ لوگ
اس کے لائے ہوئے طوفان دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






