حسرت کسی کے دل میں جلایا نہ جائے گا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاحسرت کسی کے دل میں جلایا نہ جائے گا
غیروں سے اب تو ہاتھ ملایا نہ جائے گا
بن کر جو کانٹے میرے ہی سپنے بگاڑ دیں
پلکوں یہ ایسے رنگ سجایا نہ جائے گا
لے لے نہ جان وقت کے موسم کو دیکھ کر
اب پھول پر ھی تتلی نچایا نہ جائے گا
اے فیس بک کے دوستوں تم سے گلہ نہیں
سچ ہے کہ وقت پر کبھی آیا نہ جائے گا
اب مرتے مرتے موت کا بھی ڈر نہیں رہا
اب زندگی کا ساتھ نبھایا نہ جائے گا
وشمہ یوں تیرے لمس کی خوشبو بکھر گئی
بالوں میں گل یہ کلیاں سجایا نہ جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






