حسینا ، نازمین ، گُل بدن ، دلنشین
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaحسینا ، نازمین ، گُل بدن ، دلنشین
اُس کے حُسن کا ثانی ، کوئی کہیں نہیں
آنکھیں جھیل سی گہری اور صورت گلاب جیسی
بولے تو صدا لگے اِک بجتے رُباب جیسی
چاند بھی اُس کا عاشق ، اِس قدر ہے حسین
حسینا ، نازمین ، گُل بدن ، دلنشین
بلبل چھوڑ کر گُل اُس سے سُر ملائے
حُوریں دیکھ کر اُسے کہتی ہے ہائے ، ہائے
اُس کے ہی منتظر سب کیا آسمان زمین
حسینا ، نازمین ، گُل بدن ، دلنشین
نہالؔ کو ملی ہے پَریوں سے خوبصورت
معصوم سی ہیں ادائیں ، معصوم سی بناوٹ
نام رکھا ہے میں نے اُس کا کومل پَری
حسینا ، نازمین ، گُل بدن ، دلنشین
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






