جاناں ! تری جدائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaجاناں ! تری جدائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
جب یاد آئی تنہائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
سارے شہر میں شور مچا دیکھو نکلا عید کا چاند
چاند کی روشنائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
کیا ترک تعلق میں ہر سے کہیں آنا جانا چھوڑ دیا
سوچوں میں گہرائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
کبھی شعروں میں ہجر کھینچا ، کبھی نظموں میں کیا درد بیان
لفظوں کی اَنگڑائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
ہم درد بنے میرے اشعار اور ڈائری ، قلم ، خالی کمرہ
ان سب کی پرچھائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
فریاد اُٹھی میرے دل سے ربا بچھڑا یار ملادے
فریادوں میں دُہائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
میری عشق کہانی میں اِک نام آیا ہے بارہا نہالؔ
اُس ہی کی تبائیوں میں رو کے میں نے غزل لکھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






