حسیں خواب کی بھیانک تعبیر کی مانند
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinحسیں خواب کی بھیانک تعبیر کی مانند
زندگی اپنی تھی لاوارث جاگیر کی مانند
تیرے حسن کو دے کر لفظوں کا غلاف
غزل و نظم لگے کسی تشہیر کی مانند
کچھ ہاتھ آیا نہ ایک عمر کی فقیری سے
صدیوں ٹھہرا ایک دہلیز پے فقیر کی مانند
ایک شخص کو میں مکمل پڑھ ہی نہ پایا
وہ یوں تھا کسی ادھوری تحریر کی مانند
شبِ ہجر میں آنکھ لگ بھی جاۓ تو
ایک دھیمی آواز سنتا ہوں صریر کی مانند
ہجر کی چادر میں لپٹا ہوا تھا وصل ہمارا
یعنی کوئی ملا تھا ہمیں روٹھی تقدیر کی مانند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






