حضور آپ قریب ہیں تو بہار ہے اللہ کی قسم
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTحضور آپ قریب ہیں تو بہار ہے اللہ کی قسم
ہر چیز پہ حسن ہے نکھار ہے اللہ کی قسم
آپ کا عشق ہے تو پیاری ہے یہ زندگی
ورنہ یہ جیون سارا بیکار ہے اللہ کی قسم
احساس عشق سے ہم نے رقم کیے ہیں یہ الفاظ
ہمیں آپ سے پیار ہے پیار ہے اللہ کی قسم
وہ تو کہیئے ہم آپ کو آزما رہے تھے ورنہ
ہمیں آج بھی آپ کا انتظار ہے اللہ کی قسم
ہائے وہ کم گو وہ شیریں سخن وہ مجسمہء حسن
ہر صفت میں غضب ہمارا یار ہے اللہ کی قسم
فقط کہنے کو یہ دل ہمارا ہے ورنہ حقیقتا
اس دل پہ آپ ہی کا اختیار ہے اللہ کی قسم
حد جنوں تلک جا پہنچا ہے عشق اپنا
اب آپ کے بن جینا دشوار ہے اللہ کی قسم
حضور امتیاز کیا امتیاز کا کلام کیا، وہ تو
آپ کے سبب یہ غزل مزیدار ہے اللہ کی قسم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






