حق کسی کا کسی پر اتارا نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاحق کسی کا کسی پر اتارا نہیں
اور دیکھا کوئی بھی سہارا نہیں
وہ تو سانسوں میں رہتے ہیں میرے صنم
کون کہتا ہے دل کا اشارا نہیں
اک سہارا ملا ہے ترا زندگی
تجھ کو ویسے تو میں نے پکارا نہیں
آپ جب سے مری زندگی بن گئے
کوئی سپنا ذہن پر اتارا نہیں
جس نے مجھ سے مری روشنی چھین لی
چاند میرا ہے کوئی ستارہ نہیں
تیرے ملنے کی مجھ کو امیدیں بہت
در کسی کا بھی اب تو گوارا نہیں
جب سے چھینی ہے تم نے مری ہر خوشی
اپنے سپنوں کو میں نے سنوارا نہیں
لوٹ آئے ہیں ہم آستاں پہ ترے
تیری دنیا سے کرنا کنارہ نہیں
لاکھ پہرے لگادو لبوں پہ مرے
پھر بھی وشمہ ترے بن گزارا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






