خاموشی کی زبان۔۔۔
Poet: تِینہ By: Tauseef, Lala Musaاگر تم یہ سمجھتےہوکہ میں خاموش رہتی ہوں
غلط فہمی تمھاری ہے
یہ لب خاموش رہتےہیں توآنکھیں بول دیتی ہیں
مگر تم پڑھ نہیں پاتے
سُنو جاناں
تم اکثرگُن گناتے ہوتویہ لب کِھلکھلاتےہیں
تُم اکثر مُسکراتےہو تو یہ دل مسکراتاہے
اگرخاموش رہتے ہوتوآنکھیں سب سمجھتی ہیں
مگرلب کُھل نہیں پاتے
سُنو جاناں
خاموشی کی بھی اپنی اِک زباں ہے
بہت میٹھی بہت پیاری
مگر تم پڑھ نہیں پاتے
میں اکثر سوچتی ہوں، مُجھے لگتا ہے یُوں شاید
خاموشی جُرم ہے کو ئی
اگریہ جُرم ہے تو پِھر میں مُجرم ہوں
مُجھے امید ہے جاناں
کبھی تُم جان جاؤ گے
کہ آنکھیں بول سکتی ہیں
بہت گہری ہیں یہ آنکھیں
مگر تم پڑھ نہیں پاتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






