خاموشی
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiچلو بھول جائیں ہم اپنے سب خوابوں کو
دل میں دفن کر دیں اپنے تمام جوابوں کو
تمہارے ہر سوال کو ابدی زندگی دے دیں
محبت کو اپنی صورتِ بندگی دے دیں
صرف اپنے لیے جینا ہم نے نہیں سیکھا
چھین لینا جھپٹ لینا ہم نے نہیں سیکھا
اگر کو ئی مانگے تو ہاتھ کھول دیتے ہیں
وفائیں ہم دشمنوں کو بھی بے مول دیتے ہیں
سمجھ پایا نہیں کوئی کسی کے دل کا حال کبھی
کبھی خوشی ملتی ہے کسی سے تو ملال کبھی
صرف پانا نہیں محبت کبھی، کھو کے بھی دیکھتے ہی
خاطر اور کسی کی کسی کا،ہو کے بھی دیکھتے ہیں
تم نفرت کرو ہم سے ہم محبت پھلائیں گئے
چاہ تھا تمہیں جیسے عمر بھر چاہیں گئے
کنولؔ جدا ہو کر بھی کہاں محبوب جدا رہتے ہیں
خاموشی جو کہہ جاتی ہے الفاظ کہاں کہتے ہین
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






