لگے وہ بھولنے پھر آج لفظوں کی روانی میں

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

لگے وہ بھولنے پھر آج لفظوں کی روانی میں
ہمارا بھی تو کوئی ذِکر تھا اُن کی کہانی میں

بلا مطلب نہیں ہوتا کسی پہ مہرباں کوئی
چھپی ہو تی ہے کوئی غرض تو اُس مہربانی میں

ہمارے شہر میں جو آجکل دہشت کا چرچا ہے
ہے کِس کا ہاتھ آخر اِس بلاۓ نا گہانی میں

مٹا دیتا ہے ظالم وقت آخر خال و خد سب کے
ہوا کرتے ہیں سب ہی خوبصورت نوجوانی میں

گرانی ہر طرح کی تھی گوارہ اب تلک لیکن
خلوص و مہر بھی مہنگے ہوۓ دورِ گرانی میں

زباں ہوتی تو شائد اور بھی کیا کیا نہ کہہ جاتے
بہت کچھ کہہ گئے دنیا سےہم اس بے زبانی میں

کھلیں جب پھول تو ہم کوچ کر جائیں گلتاں سے
بھلا رکھا ہی کیا ہے اس دہر کی باغبانی میں

محبت تھی یا پاگل پن نہیں معلوم کچھ عذراؔ
لٹا بیٹھے ہم اپنی جاں تمہاری پاسبانی میں

Rate it:
Views: 622
03 Apr, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL