خانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گا
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiخانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گا
پیار کی شمع جلاؤ گے تو یاد آؤں گا
بھیگے منظر میں مرا عکس دکھائی دے گا
بارشوں میں جو نہاؤ گے تو یاد آؤں گا
ہوگی محسوس تمہیں میری وفا کی خوشبو
تم کوئی خوشبو لگاؤ گے تو یاد آؤں گا
جب بھی آئے گا تمہیں سجنے سنورنے کا خیال
پاس آئینے کے جاؤ گے تو یاد آؤں گا
روٹھ جانے پہ کوئی جب نہ منائے گا تمہیں
اور تم سب کو مناؤ گے تو یاد آؤں گا
اپنی تنہائی کو تم جب بھی سکوت شب میں
میری غزلوں کو سناؤ گے تو یاد آؤں گا
بھولنے کے لئے مجھ کو مری یادوں کے نقوش
صفحۂ دل سے مٹاؤ گے تو یاد آؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






