خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق
Poet: خواجہ محمد وزیر By: مصدق رفیق, کراچیخدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق
چلوں گا پائے نگہ بن کے سوئے خانۂ عشق
نہ کم ہوں سکۂ داغ دل یگانۂ عشق
بھرا پڑا رہے یا رب سدا خزانۂ عشق
جبین قیس بنی سنگ آستانۂ عشق
جنوں ہے خیمۂ لیلےٰ سیاہ خانۂ عشق
مدام دل میں رہے داغ الفت ساقی
نہ بے چراغ ہو یا رب شراب خانۂ عشق
یہ محفل طرب حسن ہے نہیں مقتل
صدا گلوئے بریدہ کی ہے ترانۂ عشق
یہ کہہ کے پھرتی ہے دن رات آسیائے فلک
ملے تو خرمن مہ دے کے لوں میں دانۂ عشق
ہے آفتاب پیالہ فرشتہ خو ساقی
خم فلک ہے سبوئے شراب خانۂ عشق
بس ایک ہاتھ میں دو ہو کے میں زمیں پہ گرا
قضا جو آئی ادا ہو گیا دوگانۂ عشق
ہر ایک گام پہ دل پیستا ہے ابلق چشم
مگر ہے سرمے کا دنبالہ تازیانۂ عشق
جلایا طور کو اک دم میں صاعقہ بن کر
شرر فشاں جو ہوا سنگ آستانۂ عشق
ہو خانۂ صدف دل نہ کس طرح پر نور
کہ آپ ہے گہر شب چراغ دانۂ عشق
بتو خدا نے کہا فی السماء رزقکم آپ
ملا ہے مجھ کو یہ ہفت آسیا سے دانۂ عشق
یہ سچ مثل ہے بتو سب کا ہے خدا رزاق
نصیب طائر دل ہے ازل سے دانۂ عشق
جو خال بن کے خط رخ میں دل رہے میرا
کہوں میں خرمن مہ میں ملا یہ دانۂ عشق
کسی کے ابروئے پر خم کا دھیان رہتا ہے
ہمارا کعبۂ دل ہے سیاہ خانۂ عشق
صداے ماتم دل سن کے خوش وہ ہوتے ہیں
نوائے سینہ زنی ہے کہ شادیانۂ عشق
جو شوق دید ہے موسیٰ کی طرح ایک نہ سن
کہ لنترانیٔ محبوب ہے ترانۂ عشق
نقاب ادھر وہ اٹھائیں ادھر میں آہ کروں
سمند حسن پہ پڑ جائے تازیانۂ عشق
جو تولیے اسے کونین کی ترازو میں
گراں ہو وزن میں نہ آسیا سے دانۂ عشق
فروغ بزم تصور ہے یاد پستاں کی
حباب حسن بنے ہیں چراغ خانۂ عشق
خیال گوہر دنداں میں ہم جو روتے ہیں
سرشک دیدۂ تر ہے در یگانۂ عشق
ہے میرے دل کی طرح اس سے یہ پریشاں حال
ملا ہے زلف کو حسن سیاہ خانۂ عشق
چڑھا جو دار پہ عاشق کا سر ہوا سردار
جدا ہے خانۂ عالم سے کارخانۂ عشق
خدا کا گھر ہو جو ٹوٹے جہاد نفس سے دل
خراب ہو تو بنے لا مکاں یہ خانۂ عشق
وہ دل لگا کے سنیں داستان کی صورت
بیان کیجیے اس حسن سے فسانۂ عشق
وزیرؔ تخم محبت کو دل میں بو اپنے
زمیں وہ شور ہے جس میں اگے نہ دانۂ عشق
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






