خوابوں میں پھر آئے وہ
آ کر چلا نہ جائے وہ
دیکھ کے مجھ کو کھڑکی سے
اپنا ہاتھ ہلائے وہ
کاش کہ بھیگے موسم میں
نغمہ گنگنائے وہ
آ کر میری بانہوں میں
اتنا کیوں شرمائے وہ
میں ہوں اُس کے ساتھ رہا
جانے کیوں گھبرائے وہ
بجھ نہ پائے آندھی میں
کس نے دیپ جلائے وہ
ایسی رات اندھیری میں
تارہ ہی بن جائے وہ
چھت پہ بیٹھا سوچوں میں
نکلے چاند جو آئے وہ
ہو جاتی ہے ہر سو بارش
گیسو جب لہرائے وہ
یاد بہت وہ آتا ہے
گیا ہے دیس پرائے وہ
اپنا در جاوید کھلا
جب جی چاہے آئے وہ