خوابیدہ چراغ
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aشاخوں پہ کھلے پھولوں پہ ہے غم کا بسیرا
ہر سحر میں بکھرا ہوا بے نام اندھیرا
شب فرقت میں تقاضا ہے اہل ہوس کا
ناں سونے کی تمنا ہے ناں دیکھیں گے سویرا
میری چاہت سے منور ہے تیرے چہرے کا چاند
رخ یار کے ہر عکس میں چھپا رنگ ہے میرا
ہم ان کی محبت میں کریں گے ناں شکایت
ڈھلتی ہوئی ہر شب میں ہے اشکوؤں کا ڈیرا
ہو آسودگی دن کی یا ہو دل نواز کوئی شام
خوابیدہ چراغوں میں چھپا حسن ہے تیرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







