Khushboey Jaan
Poet: Zia-Ur-Rehman Zia By: Zia, karachiAaj Ik Aisi Hawa Chali Khushboey Jan Se Bhari Hui
Ksi Soch Mai M Gum Tha, Hosh Tha Na Apna Pta
Asar Jo Booey Azize Qalb Ka Hua, M Mehak Utha Sar Se Paon Tak
Ye Usi Boo Ka Asar Hay, Jo Meri Rooho Jan Mai Basi Hui
Meri Smaatain Hain Behrawar, Tum Hi Ho Han Wo Tum Hi Ho
Usi Booey Jan Mai M Tar Raha, Usi Soch Mai M Gum Raha
Usay Sochta Raha Baray Shoq Se, Bari Lagan Se, Bari Dair Tak
Deedahe Aks Mai Jo Ja Ghusaa, Sare Aam Phir Wo Aagaya
Khyalon Mai Gum Jo Aks Tha, Usay Dekhta Raha Bari Dair Tak
Rukh Hilale Mehtaab Tha, Nazrain Qalbe Cheer Thin
Basarat Pe Apni Shak Hua, Farq Karne Mai Bebas Hua
Adaaen Qatle Insaan Beqasoor Thin, Nazrain Behad Maghroor Thin
Lamha Bhar Ko Jo Lehza Go Hua, Smaatain Sare Rashk Thin
Phir Mehwe Guftagu Raha Baray Shoq Se Bari Dair Tak
Lehjay Ki Mithaas Ne Gardishe Lahu Ko Barha Dia
Aankhain Khushi Se Nam Thin, Haqiqat Mai Jab Wapis Hua
Duaon Ka Zoro Shor Tha, Tasbeeh Mai Zubaan Mashghool Thi
Iltajaaen Sare Lab Rahin, Tujhe Rab Se Maanga Bari Dair Tak
Aey Jaane Janane Jane Zia, Mujhe Rab Se Hay Bas Teri Talab
Tujhe Sochta Raha Bari Dair Tak, Tujhe Maangta Raha Bari Dair Tak
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






