خوشیوں کی خیرات
Poet: Ghulam Rasool Tahir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreاچھے نہیں ہیں میرے جو حالات ان دنوں
ہوتی نہیں ہے ان سے ملاقات ان دنوں
بیٹھے ہیں ہم تو خوشیوں کی خیرات کیلئے
اس سے سوا نہیں ہے اوقات ان دنوں
ڈستی ہیں ان کی یادیں تنہائ میں مجھے
نشتر سی لگ رہی ہے جو ہر بات ان دنوں
قسمت تھی اپنی کھوٹی' محروم جو ہوئے
بٹتی تھی حسن کی جو خیرات ان دنوں
ٹپکے نہ کیوں یہ چھت بھی کچے مکان بھی
پیچھے پڑی ہے میرے جو برسات ان دنوں
طاہر یہ ان کے ترک وفا کا کمال ہے
کٹتے ہیں مے کشی میں جو دن رات ان دنوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






