خیالوں سے کھیلے نہ خوابوں سے کھیلے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIخیالوں سے کھیلے نہ خوابوں سے کھیلے
پرستار تیرے گلابوں سے کھیلے
کہیں تجھ سا کوئی بھی لگتا نہیں
ہم زمین آسماں کے مہتابوں سے کھیلے
غم دل میں کتنی حسین زندگی ہے
بھلا کون ایسے نصابوں سے کھیلے
سبھی غم ہماری تمنا بنے ہیں
دل کیوں بھلا اب عذابوں سے کھیلے
تیری آنکھوں کا حسن لکھا گیا نہ
بہت سے قلمدان کتابوں سے کھیلے
سورج بھی کالی گھٹا بن کے برسے
تیری زلف جب بھی سرابوں سے کھیلے
جن ہاتھوں میں ڈور ہے زندگی کی
دل ہے نادان انہی نوابوں سے کھیلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






