خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہے
Poet: فیروز By: فیروز, Charsaddaخیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہے
کبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہے
تمہارا عشق جسے خاک میں ملاتا ہے
اسی کی خاک سے پھر پھول بھی کھلاتا ہے
ڈھلے گی رات تو پھیلے گا نور بھی اس کا
چراغ اپنا سر شام جھلملاتا ہے
نہ طے ہوئی تری شمع جمال سے بھی جو راہ
وہیں پہ میرا جنوں راستہ دکھاتا ہے
نہ جانے شوق کو عادت ہے کیوں بہکنے کی
ترا حجاب تو بے شک ادب سکھاتا ہے
کہاں بجھائے سے بجھتے ہیں عشق کے شعلے
چراغ یوں تو جو جلتا ہے بجھ بھی جاتا ہے
یہ باد راہ گزر در خور چمن نہ سہی
غبار کا بھی ٹھکانا نکل ہی آتا ہے
جنوں کی چال پہ ٹھٹکی نہ وہ نظر تنہا
یہاں زمانہ بھی قدموں میں لوٹ جاتا ہے
ہے تیرے غم کی غم روزگار سے سازش
کہاں کہاں دل دیوانہ کام آتا ہے
سرورؔ جنس وفا بیچتے نہیں پھرتے
جگر کے داغ دکھانا تو سب کو آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






