دب رہا ہے سینے میں دل ایسا گزرا زمانہ یاد آیا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaدب رہا ہے سینے میں دل ایسا گزرا زمانہ یاد آیا
وہ کسی کہانی یاد آئی وہ کیسا فسانہ یاد آیا
وہ تیر نظر کس پے تھی وہ تیر نشانہ کوں بنا
اس شمع کا دل دھڑکنے سے کچھ طوفاں کا گھبرانہ یاد آیا
زخمی جگر میں چس لگی گھاؤ ہی کچھ ایسا تھا توبہ
کچھ ماضی باتیں یاد آئیں کچھ دینا جان کا نظرانہ یاد آیا
وہ ہنس ہنس جان لیتے رہے میں ہنس ہنس دیتا گیا
کچھ اس کی جوانی یاد آئی کچھ عشق دیوانہ یاد آیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






