دردِ تنہائی نے صدیوں سے جگا رکھا ہے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiدردِ تنہائی نے صدیوں سے جگا رکھا ہے
خانہءِ دل میں فقط اس کو بسا رکھا ہے
اس نے جانا نہ میرے عشق کے پیمانے کو
دیکھا اس نے نہ کبھی جو میں نے عیاں رکھا ہے
شہر میں لوگ میرے حال پہ ہستے کیوں ہیں؟
میں نے آنسوں کو تو خود سے بھی چھپا رکھا ہے
لڑکھڑاتی ہوئی سانسوں نے دہائی دی ہے
میری سانسوں نے تجھے مجھ میں بسا رکھا ہے
بازیءِ عشق میں جیتا بھی تو کیسے احسن
اس نے مرنے پہ میرے آنکھوں کو سجا رکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







