درد آنکھوں میں محبت کا جلایا جائے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ نیا سال یوں الفت میں منایا جائے
درد آنکھوں میں محبت کا جلایا جائے
اپنے جذبات کوآنکھوں میں دکھایا جائے
کتنا مشکل ہے سمندر کو بہایا جائے
چاند کاٹے گا کہاں رات سہانی اپنی
چاند چہرے پہ اگر آج ستایا جائے
لوگ کرتے ہیں زمانے میں وفا کی باتیں
میری آنکھوں میں تو سب رنگ یہ پایا جائے
موسمِ گل پہ بھی کیوں آج خزاں ہے بھاری
جانے کس سمت سے یہ درد بھلایا جائے
میں بھی رکھ دوں گی یہاں پھوڑ کے آنکھیں اپنی
تیری آنکھوں سے اگر خواب سجایا جائے
کس قدر آنکھ میں دہشت تھی نہ پوچھو مجھ سے
خواب کے پیڑ سے جب دھوپ کو لایا جائے
میرے اس عشق کی بابت اسے معلوم ہے کیا
دل میں وہ پیار کا گر دیپ جلایا جائے
میں تو سمجھی تھی مرے پیار میں تر ہیں آنکھیں
یہ مگر اور ہی دریا کو بہایا جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






