درد کو ہم کلام کرتے ہیں
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotدرد کو ہم کلام کرتے ہیں
اہلِ دل یوں سلام کرتے ہیں
تیری محفل میں جو بھی آتے ہیں
زندگی تیرے نام کرتے ہیں
تیرے کہنے پہ جاں بھی دے جائیں
ہم ترا احترام کرتے ہیں
بات کرنے کو کچھ نہیں لیکن
لوگ جینا حرام کرتے ہیں
پھیل جاتی ہے ہر طرف خوشبو
وہ جہاں بھی قیام کرتے ہیں
ہجر میں اور اب نہیں جلنا
بات یہ صبحّ و شام کرتے ہیں
جن کا کرنا عذاب لگتا ہے
کیسے کیسے وہ کام کرتے ہیں
ہاتھ سے چھو کے پانی کو سائل
آب کو ہی وہ جام کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






