یہ کس نے مجھ پہ اک نیا الزام رکھ دیا
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotیہ کس نے مجھ پہ اک نیا الزام رکھ دیا
قتلِ رقیب پر ہے مرا نام رکھ دیا
ہر سمت شہر میں یہی باتیں ہیں ہو رہی
محفل میں آکے تو نے تھا کِیوں جام رکھ دیا
اب بات کون سی پہ وکالت کریں تری
دنیا نے جب ہمی پہ ہے الزام رکھ دیا
کچھ ایسے حادثات بھی ہیں رونما ہوے
ہستی کو میری جن نے در و بام رکھ دیا
ہم نے کہا تھا جایئے سائل کو چھوڑ کر
اور آپ نے خوشی سے یہی کام رکھ دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






