دریا کا کنارے سے کنارہ نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااب دشتِ مضافات کا دھارا نہیں ہوتا
دریا کا کنارے سے کنارہ نہیں ہوتا
اس دل میں چھپا کیا ہے مری آنکھ میں پڑھ لے
ہونٹوں پہ تبسم کا شرارہ نہیں ہوتا
میں نے تو محبت میں کئی نفل پڑھے ہیں
اندازِ وفا دیکھ تمہارا نہیں ہوتا
مجھکو تو کسی جیت کی خواہش بھی نہیں تھی
تو عشق مگر جیت کے ہارا نہیں ہوتا
پلکوں پہ ہیں آباد مرے خواب جذیرے
اور ہاتھ میں قسمت کا ستارہ نہیں ہوتا
غرقاب جزیرہ ہوا ساحل پہ میں ابھری
تقدیر کا ساحل پہ خسارہ نہیں ہوتا
میں دوڑتی آئی ہوں کہیں دور سے وشمہ
اِس بار مجھے اُس نے پکارا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






