جلتی ہوئی دوپہر کا سایہ نہیں ہوتا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

جلتی ہوئی دوپہر کا سایہ نہیں ہوتا
اس حال میں جینا کوئی اچھا نہیں ہوتا

ہے کوئی ادا کر دے ہمیں پیار کی دولت
دھرتی پہ وفاؤں کا گزارا نہیں ہوتا

دنیا نے ستم اتنے کئے ہیں مرے دل پر
ان الجھے خیالات کا مارا نہیں ہوتا

ملنے پہ بھی چہرے کو ترستی ہیں نگائیں
خاموش نگا ہوں سے پلایا نہیں ہوتا

تنہائی کو سینے سے لگا رکھا ہے کب سے
بکھری ہوئی اس روح کا اپنا نہیں ہوتا

مجھ سے نہ ہوئی اپنے ہی اشکوں کی حفاظت
بہتر ہے کہ مجھ سے مرا پورا نہیں ہوتا

کچھ لوگ یہاں پیار کے جنگل سے گزر کر
خود شہر خرافات میں ایسا نہیں ہوتا

دل پارہ ہوا میرا بس اک لفظ نہیں پر
امید نہ تھی ایسا ہی رویا نہیں ہوتا

کیوں خوف یہ بے نام لئے پھرتی ہے وشمہ
شدت سے تری دید کا پورا نہیں ہوتا

Rate it:
Views: 477
08 Sep, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL