جلتی ہوئی دوپہر کا سایہ نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجلتی ہوئی دوپہر کا سایہ نہیں ہوتا
اس حال میں جینا کوئی اچھا نہیں ہوتا
ہے کوئی ادا کر دے ہمیں پیار کی دولت
دھرتی پہ وفاؤں کا گزارا نہیں ہوتا
دنیا نے ستم اتنے کئے ہیں مرے دل پر
ان الجھے خیالات کا مارا نہیں ہوتا
ملنے پہ بھی چہرے کو ترستی ہیں نگائیں
خاموش نگا ہوں سے پلایا نہیں ہوتا
تنہائی کو سینے سے لگا رکھا ہے کب سے
بکھری ہوئی اس روح کا اپنا نہیں ہوتا
مجھ سے نہ ہوئی اپنے ہی اشکوں کی حفاظت
بہتر ہے کہ مجھ سے مرا پورا نہیں ہوتا
کچھ لوگ یہاں پیار کے جنگل سے گزر کر
خود شہر خرافات میں ایسا نہیں ہوتا
دل پارہ ہوا میرا بس اک لفظ نہیں پر
امید نہ تھی ایسا ہی رویا نہیں ہوتا
کیوں خوف یہ بے نام لئے پھرتی ہے وشمہ
شدت سے تری دید کا پورا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






