دسترس
Poet: Humaira Saqlain By: Humaira, toronto بڑا مان تھا کہ دونوں جہاں ہیں دسترس میں
جھانک کر دیکھا تو اپنی ذات بھی پرائی تھی
بارہا گرے،بارہا سنبھلے، مگر اب کی بار نہ سنبھل سکے
کہیں کیسے، چوٹ بھی تو اپنوں سے گہری کھائی تھی
وہ ہمنشییں چاند، جگنو، نہ جانے کیا کیا تھا نظر میں
ہر نظم،اسی خوبرو کے لیے تو ہم نے سنائی تھی
بنتے ہیں لوگ مجرم، گھر اجاڑنے پر، پھر ہم کیونکر ہوئے
ہم نے تو اس کے دل ویراں کی دنیا ہی بسائی تھی
خانہ خدا توڑا لوگوں نے، جب تو کوئی شور برپا نہ ہوا
آج اک مکان گرا تو، ہر طرف مچی کیسی دھائی تھی
عہدو پیماں ہوئے تھے جس کی گنگناہٹ میں
وہی غزل آج پھر محفل میں کس نے گنگنائی تھی
خیال تھا اس کا، مسکرانے سے غم بھاگ جاتے ہیں
آزمانے کے لیے پھر، ہم نے قہقوں کی دولت لٹائی تھی
رفوگر کیونکر چلے آئے آج ہمدردیاں بانٹنے
ہم نے تو ہر چوٹ بڑے سلیقے سے چھپائی تھی
سنا تھا! سب کچھ گنوا کر ہی ملتی ہے یہاں چاہت
پھر اسے پانے کے لیے کب ہم نے کوئی چیز بچائی تھی
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






