دستِ دعا سے ایک پھول کا بِکھر جانا
Poet: احسِِن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinدستِ دُعا سے ایک پھول کا بِکھر جانا
راس آیا نہ جِسے کبھی یوں اُجڑ جانا،
میں تیری زندگی کا وہ ساکن لمحہ ہوں،
کے برف بن جانا اور رگوں میں اُتر جانا
جنونِ عشق کے یہ تھا سِلا میری بدگمانی کا،
ہر اشک راٸیگاں ہونا ہر دعا بے اثر جانا
لوٹ آؤ کے عقیدت ہے تیرے فریب سے،
پھر سے لوٹ جانا تم پھر سے مکر جانا
یہ لمحہ بھی کبھی عنایت کیا شبِ فراق نے،
آنسوں سے اثر جانا ہونٹوں سے صبر جانا
میرے نصیبوں میں احسِن آیا ہی نہیں ہٙوا ہونا،
لبوں پے ٹھہر جانا لٹکِ یار سے گذر جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







