دسمبر کی آخری شب
Poet: صبغہ احمد By: Sibgha Ahmad, Layyahدسمبر کی آخری شب ہے
ستارے گو مگو حالت میں
یونہی بات کرتے ہیں
پتا کیا بات کرتے ہیں
تیرے شیریں، شرر لہجے کا
موضوع عام کرتے ہیں
آنکھوں کے پیالے میں
جب سرخ جام بھرتے ہیں
تو مطلب یہ ہوا کہ ہم بھی
تم کو یاد کرتے ہیں
ادائے بے نیازی ہے، تغافل ہے، عداوت بھی
تو لو جاناں ہم اپنا آپ
تمھارے نام کرتے ہیں
یوں رسوائیوں کا ڈر ہمیں تو مار ڈالے گا
لے تیرے نام پہ مر کے
اختتام شام کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry






