دعوت پہ بھی بارات پہ بھی ٹیکس لگے گا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiدعوت پہ بھی بارات پہ بھی ٹیکس لگے گا
شادی کی رسومات پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب یار کی ملاقات پہ بھی ٹیکس لگے گا
دیدار کی ہر بات پہ بھی ٹیکس لگے گا
احسان ذرا سوچ کے تم کرنا کسی سے
بے لوث عنایات پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب اپنے اثاثے کبھی ظاہر نہیں کرنا
ان تحفے مراعات پہ بھی ٹیکس لگے گا
مسجد کا تقدس بھی نہیں اب رہے گا وہ
اب فرض عبادات پہ بھی ٹیکس لگے گا
باتیں کرے گا غیر مناسب جو بھی یہاں پر
ہر ایک سوالات پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب عشق محبت پہ بھی پاپندی ہے یہاں پر
اب نظروں کی حرکات پہ بھی ٹیکس لگے گا
ترکاری فواکہ پہ گھی گوشت آٹا پہ
اب گھر کے مکانات پہ بھی ٹیکس لگے گا
کوئی بھی برا سوچے نہ بارے میں کسی کے
شہزاد خیالات پہ بھی ٹیکس لگے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






