کون کہتا ہے ایسے بھلا دیں گے لوگ
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکون کہتا ہے ایسے بھلا دیں گے لوگ
خدمتِ خلق کیجے دُعا دیں گے لوگ
ہر کسی کو اگر اپنا سمجھے گا تو
ہوکے ممنون احساں صدا دیں گے لوگ
پیار بے لوث کرتا کسی سے ہے جو
اس کو کیسے یہاں پر دغا دیں گے لوگ
توڑتا جو نہیں دل کسی کا یہاں
عین ممکن نہیں ہے سزا دیں گے لوگ
جس کے گرویدہ ہوں چاہنے والے سب
اس کو عزت ملے گی وفا دیں گے لوگ
نیک شہزاد جب کام ہوگا یہاں
ایسے میں پیار سے سب دعا دیں گے لوگ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






