دلاسہ
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreمیرے تن کے زخم نہ گن ابھی
نہ دیکھ میری جھکی نظر
خاموش لفظوں کو نہ دیکھ کے ھنس
خاموش لفظوں کو بھی پہچان لے
جبیں پہ زلفیں نہ دیکھ بس
ماتھے کی شکنیں بھی دیکھ لے
جو غرور ھے میری ذات کا
جو میرے لہو کا شرف ھے
تجھے چاھنا میرا عزم تھا
تجھے مانگنا اک بھرم تھا
جو نہیں ملا تو کیا ھوا
سماں ھے اب بھی پرفضا
ڈھال نہیں بنا تو کیا
جان نہیں بنا تو کیا
تیرا جرم یہ بلا کا سہی
میرا سہنا بھی تو کمال ھے
جو آج میرا فخر ھے
دھڑکن بھی وھی ھے میری
نظر بھی تیری ھے وھی
لیکن
اب میرے آغوش میں
دل کی ھر دھڑکن اور
آنکھوں کے ھر پردے میں
اک اصل چیرہ ساتھ ھے
تو نہیں ملا تو کیا ھوا۔۔۔۔۔۔۔
سماں ھے اب بھی پر فضاء
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






