چوڑیاں
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreشڑڑ شڑڑ کرتی تمھارا حال دل کہتی
تمھاری طرف سے ملی ھیں
مجھے دو رنگ کانچ کی چوڑیاں
اچھا لگا سبز اور سرخ رنگ
پہلی بار ایک ھو جانے پہ
بھلا لگا پہلی بار کلائیوں میں زیور کوئی
تیری چاھت کے رنگ میں لپٹا
تیرے ھر جذبے کی عکاسی کرتا
نگاہ جھک گئی نہ جانے کیوں؟؟؟؟؟
آج پھیلا جب ۔۔۔۔ چھیڑتا سکوت گرد میرے
ایسا محسوس ھوا ۔۔۔۔۔۔ یہ کانچ۔۔۔۔۔۔۔۔ توبہ!
تیرے ھاتھ بن گئے ھوں جیسے
تھام لیا میری کلایئوں کو
ان کانچ کے جلترنگ رنگوں نے
بے چین ھو کر تیری طرح
تڑپتی چھن چھن سی انکی
تیری چاھت سا اظہار چاھتی ھوں جیسے
چھن چھن سرگوشی کرتی ان چوڑیوں کی
چھن چھن کے شور میں
ھزار شکوے کرتی رھی
تیری ھمدرد بن کے
مدھر سرگم میں کہہ گئی مجھ سے
سو راز تیرے۔۔۔۔۔ تری منچلی دھڑکن بن کے
یہ چوڑیاں
یہ زیور
مجھے اچھے نہیں لگے تھے کبھی
آج میری جان ھو گئی ھوں جیسے
تیرا ھلکا سا لمس بن کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






