چوڑیاں

Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahore

شڑڑ شڑڑ کرتی تمھارا حال دل کہتی
تمھاری طرف سے ملی ھیں
مجھے دو رنگ کانچ کی چوڑیاں
اچھا لگا سبز اور سرخ رنگ
پہلی بار ایک ھو جانے پہ
بھلا لگا پہلی بار کلائیوں میں زیور کوئی
تیری چاھت کے رنگ میں لپٹا
تیرے ھر جذبے کی عکاسی کرتا
نگاہ جھک گئی نہ جانے کیوں؟؟؟؟؟
آج پھیلا جب ۔۔۔۔ چھیڑتا سکوت گرد میرے
ایسا محسوس ھوا ۔۔۔۔۔۔ یہ کانچ۔۔۔۔۔۔۔۔ توبہ!
تیرے ھاتھ بن گئے ھوں جیسے
تھام لیا میری کلایئوں کو
ان کانچ کے جلترنگ رنگوں نے
بے چین ھو کر تیری طرح
تڑپتی چھن چھن سی انکی
تیری چاھت سا اظہار چاھتی ھوں جیسے
چھن چھن سرگوشی کرتی ان چوڑیوں کی
چھن چھن کے شور میں
ھزار شکوے کرتی رھی
تیری ھمدرد بن کے
مدھر سرگم میں کہہ گئی مجھ سے
سو راز تیرے۔۔۔۔۔ تری منچلی دھڑکن بن کے
یہ چوڑیاں
یہ زیور
مجھے اچھے نہیں لگے تھے کبھی
آج میری جان ھو گئی ھوں جیسے
تیرا ھلکا سا لمس بن کے

Rate it:
Views: 589
24 Apr, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL